حوزہ نیوز ایجنسی | دروس مہدویت کا سلسلہ بعنوان «مثالی معاشرے کی جانب»، امامِ زمانہ عجل الله تعالی فرجه الشریف سے وابستہ معارف و تعلیمات کی ترویج کے مقصد سے اہلِ دانش کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
انتظار کے حقیقی اور قطعی مفہوم کے روشن ہونے کے باوجود، اس کے بارے میں مختلف تفسیریں اور تعبیرات پیش کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا حصہ اہلِ فکر و دانش کی آرا پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرا حصہ بعض شیعہ افراد کی جانب سے مسئلۂ انتظار کی عوامی فہم کا نتیجہ ہے۔
اس سلسلے میں دو بنیادی اور نمایاں تعبیرات پائی جاتی ہیں:
۱۔ صحیح اور تعمیری انتظار
تعمیری اور ذمہ داری پیدا کرنے والا انتظار وہی حقیقی انتظار ہے جسے روایات میں «افضل عبادت» اور «امتِ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا برترین جہاد» قرار دیا گیا ہے۔
مرحوم شیخ محمدرضا مظفرؒ نے ایک مختصر مگر جامع بیان میں انتظار کی یوں وضاحت کی ہے کہ:
حقیقی مُصلِح اور منجی الٰہی حضرت مہدی عجلاللهتعالیفرجهالشریف کے ظہور کے انتظار کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسلمان اپنی دینی ذمہ داریوں سے ہاتھ کھینچ لیں اور ان واجبات میں کوتاہی کریں جو ان پر لازم ہیں، جیسے حق کی نصرت، دینی قوانین و احکام کا احیاء، جہاد، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر؛ اور یہ فکر کہ جب قائمِ آلِ محمد عجلاللهتعالیفرجهالشریف تشریف لائیں گے تو خود ہی سب کچھ درست کر دیں گے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اسلامی احکام کی انجام دہی کو اپنی ذمہ داری سمجھے، دین کی صحیح معرفت کے لیے ہر ممکن کوشش کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے دستبردار نہ ہو۔ جیسا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسؤولٌ عَنْ رَعِیَّتِهِ»
“تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔”
(بحارالانوار، ج ۷۲، ص ۳۸)
لہٰذا ایک مسلمان محض ظہورِ امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کی بنا پر اپنی قطعی اور مسلّم ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ان میں سستی کر سکتا ہے؛ کیونکہ ظہور کا انتظار نہ تو تکلیف کو ساقط کرتا ہے اور نہ عمل میں تاخیر کا جواز فراہم کرتا ہے۔ دینی فرائض میں سستی اور بے حسی کسی صورت جائز نہیں۔
(عقائد الامامیة، ص ۱۱۸)
خلاصہ یہ کہ انتظار کی حقیقی ثقافت تین بنیادی ستونوں پر قائم ہے:
الف) موجودہ صورتِ حال سے عدمِ اطمینان؛
ب) بہتر مستقبل کی امید؛
ج) موجودہ حالت سے مطلوبہ حالت تک پہنچنے کے لیے عملی جدوجہد اور کوشش۔
۲۔ غلط اور تباہ کن انتظار
وہ انتظار جو انسان کو عمل سے روک دے اور حقیقت میں ایک قسم کی اباحیّت (بے قیدگی) پر منتج ہو، ہمیشہ سے بزرگانِ دین کی جانب سے قابلِ مذمت قرار دیا گیا ہے، اور مکتبِ اہلِ بیت علیہمالسلام کے پیروکاروں کو اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
علامہ شہید مرتضیٰ مطہری قدسسرّه اس بارے میں لکھتے ہیں:
اس قسم کا انتظار، مہدویت اور قیام و انقلابِ مہدی موعود عجلاللهتعالیفرجهالشریف کی ایک سطحی عوامی تعبیر ہے جو محض ایک انفجاری کیفیت رکھتی ہے؛ یعنی ظلم، تبعیض، جبر، حق تلفی اور فساد کے پھیلاؤ کے نتیجے میں اچانک وقوع پذیر ہونے والے انقلاب کا تصور۔
ظہور اور قیامِ مہدی موعود عجلاللهتعالیفرجهالشریف کی یہ تعبیر، اور فرج کے انتظار کی یہ صورت جو اسلامی حدود و ضوابط کی تعطیلی پر منتج ہو، یقیناً اباحیّت کے زمرے میں آتی ہے اور کسی بھی طرح اسلامی و قرآنی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔
(قیام و انقلابِ مہدی علیہالسلام، ص ۵۴)
اسی طرح، بانیٔ انقلابِ اسلامی ایران نے بھی انتظار کے غلط تصورات کی وضاحت کے بعد، ایسے خیالات رکھنے والوں کی سختی سے مذمت فرمائی ہے۔
(صحیفۂ نور، ج ۲۱)
چنانچہ ایک حقیقی منتظر، ظہور اور قیامِ مہدی موعود عجلاللهتعالیفرجهالشریف کے معاملے میں ہرگز محض تماشائی کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔
جاری…
کتاب «درسنامۂ مهدویت» تصنیف: خدامراد سلیمیان (معمولی ترمیم کے ساتھ)









آپ کا تبصرہ